تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، طارق فضل چوہدری

0

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ صوبے میں مجوزہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا معاملہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے نہیں بلکہ سکیورٹی صورتحال سے متعلق ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت ایمرجنسی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا معاملہ بھی اہم ہے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جمعہ کو ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بات چیت میں سیاسی معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکومت سے کسی ریلیف یا رعایت کا مطالبہ سامنے آیا تو اسے آئینی اور قانونی دائرے میں دیکھا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں صرف لانگ مارچ مؤخر بھی ہوجاتا ہے تو اس سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ ختم نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں معاملات الگ ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے صوبائی حکومت کو بارہا آگاہ کیا گیا، تاہم وفاقی حکومت کے مطابق صوبائی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مطلوبہ تعاون نہیں ہورہا۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا میں حکمرانی کے معاملات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق کمزور طرز حکمرانی کے باعث دہشتگردی، جرائم اور اسمگلنگ کے درمیان تعلق مضبوط ہوا ہے، جو دہشتگردوں کے لیے بالواسطہ طور پر معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں دہشتگردی کے خلاف تعاون اور صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں سمیت مختلف امور پر بات ہوگی۔ ان کے مطابق دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

ایمرجنسی کے امکان پر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کے وزرا اور ترجمان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے اور حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کے ممکنہ فوائد، نقصانات اور نتائج کا جائزہ بھی لیا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ اگر فریقین کے تحفظات مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے دور ہوسکتے ہیں تو سیاسی حل کی کوشش کی جانی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.