تازہ ترین

پاکستانی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، محمد اورنگزیب

0

کراچی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام سے آگے بڑھتے ہوئے ترقی کی جانب گامزن ہے، تاہم معاشی بہتری کو پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات، سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ارکان اور متعلقہ حلقوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے حکومت کی 6 معاشی ترجیحات بیان کیں، جن میں معاشی استحکام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانا، پائیدار اور جامع ترقی کی طرف پیش رفت، ساختی اصلاحات کا تسلسل، امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا، چھوٹے و درمیانے کاروبار سمیت مختلف شعبوں کے لیے مالی سہولتوں میں اضافہ اور نئی معیشت کے مواقع سے فائدہ اٹھانا شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ تین سال قبل ملکی معیشت سکڑاؤ کا شکار تھی، تاہم اب صورتحال استحکام سے ترقی کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق اب اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ معاشی ترقی عارضی بنیادوں کے بجائے مستقل اور پائیدار ہو۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کی قیادت نجی شعبے کو کرنا ہوگی، جبکہ حکومت کاروبار کے لیے سازگار ماحول، مؤثر پالیسی، ضابطہ جاتی سہولت اور سرمایہ کاری کا بہتر نظام فراہم کرے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کو عارضی مالی وسائل اور صرف کھپت پر مبنی توسیع کے بجائے پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار میں اضافے سے منسلک کرنا ہوگا۔

انہوں نے ملکی سرمایہ کاری اور سرمایہ سازی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے لین دین کے دوران بڑے پاکستانی کاروباری گروپس نے باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا اور مجموعی طور پر تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر متحرک کرنے کی صلاحیت دکھائی۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار دوست ماحول اور پالیسی فریم ورک فراہم کرنا ہے، جبکہ معاشی ترقی میں نجی شعبے کو مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے برآمدی قرض فراہم کرنے والے اداروں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون سمیت مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ کان کنی و معدنیات، ٹیکنالوجی، زراعت، تیل و گیس اور ریفائنریوں کی بہتری سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ترکی، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے سرمایہ کار بھی پاکستان میں مختلف شعبوں کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگتا ہے، جس کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، مؤثر سہولت کاری اور سازگار سرمایہ کاری کا ماحول ضروری ہے۔

ساختی اصلاحات کے حوالے سے محمد اورنگزیب نے کہا کہ اصلاحات اب منصوبہ بندی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، جن میں ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری ادارے، نجکاری اور سرکاری مالیات شامل ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 57 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جو گزشتہ سال تقریباً 39 لاکھ اور 2022 میں 18 سے 19 لاکھ کے قریب تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے اور اعتماد بحال کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے چھوٹے و درمیانے کاروبار، زراعت، رہائش اور دیگر شعبوں کے لیے مالی سہولتوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت تقریباً 60 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاچکی ہے، جبکہ بینکوں کی جانب سے مزید مالی معاونت کے لیے بھی بڑی تعداد میں منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب چیلنج صرف مالی وسائل کی دستیابی نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ دستیاب قرض تعمیرات، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی معاشی سرگرمیوں میں تبدیل ہو۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی بچت کو بنیادی ڈھانچے، رہائش، نجکاری اور نجی شعبے کی توسیع سمیت پیداواری سرمایہ کاری کی جانب منتقل کیا جاسکے۔

محمد اورنگزیب نے نئی معیشت کے مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، بلاک چین، ویب تھری اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سرمایہ کاری، جدت، برآمدات اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی سمت مستقبل میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری، جدت، روزگار پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کی صلاحیت سے زیادہ جڑی ہوگی، جبکہ حکومت پالیسیوں کے تسلسل، سہولت کاری اور بہتر معاشی نظم و نسق پر توجہ دے گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ توقع ہے کہ پاکستان کی خودمختار قرض کی درجہ بندی آئندہ مالی سال 2027-28 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بی پلس تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ موجودہ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے بعد پاکستان کو مزید پروگرام کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.