تازہ ترین

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، گنڈاپور کے مزید آڈیو پیغامات سامنے آگئے

0

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا قیادت کے درمیان اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے ہیں، جہاں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے پیغامات اور ریکارڈ موجود ہیں جنہیں منظرعام پر لانے سے پارٹی کے اندر کئی معاملات بے نقاب ہوسکتے ہیں۔

صوبائی کابینہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے ایک منٹ 43 سیکنڈ کے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی گفتگو میں احتیاط کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں اتفاق اور اتحاد برقرار رکھنے کے لیے وہ خاموش ہیں، لیکن اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

گنڈاپور نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر وزیراعلیٰ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو وہ یہ بھی بتائیں گے کہ سہیل آفریدی کس طرح اور کن مبینہ شرائط کے تحت اقتدار میں آئے اور انہیں کس نے اس منصب تک پہنچایا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو ’خودساختہ ٹیپو سلطان‘ اور ’میڈ اِن چائنا‘ بھی قرار دیا۔

سابق وزیراعلیٰ نے 26 نومبر 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو اس روز ایک اعلان کرنا تھا، تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ گنڈاپور نے الزام لگایا کہ بعض معاملات طے ہونے کے باوجود دانستہ تاخیر کی گئی اور یہ سب مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا۔

آڈیو میں گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقاتوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور سہیل آفریدی پر ان ملاقاتوں کی بندش میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ بی بی کی جانب سے سہیل آفریدی کو اقتدار میں لانے والے شخص کے لیے بھیجے گئے پیغامات اور متعلقہ گفتگو کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔

علی امین گنڈاپور نے بشریٰ بی بی کی بیٹی کی ملاقاتیں بند کروانے کا الزام بھی سہیل آفریدی پر لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے متعلقہ ریکارڈ سامنے رکھ دیا تو کئی افراد کے لیے اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔ تاہم آڈیو پیغام میں ان الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

سابق وزیراعلیٰ نے سہیل آفریدی کے رویے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کررہے ہیں۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کو چھوڑ کر چلے جانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ پارٹی کے مفاد میں وہ بہت سے معاملات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر بات برداشت کرتے رہیں گے۔

پہلے آڈیو پیغام کے بعد گنڈاپور کا ایک اور پیغام بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تنازع پر ایک سخت تحریری پیغام تیار کیا تھا، تاہم اسے اس خدشے کے باعث حذف کردیا کہ وہ لیک ہوکر میڈیا تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر سے چیزیں لیک ہونے کے خدشے کے باعث انہوں نے پیغام بھیجنے کے بجائے ڈیلیٹ کردیا۔ ان کے مطابق غیر ذمہ دارانہ گفتگو اور اس نوعیت کے الزامات کسی کو زیب نہیں دیتے۔

دوسرے آڈیو پیغام میں گنڈاپور نے اپنی خاموشی کی وجہ عمران خان اور پارٹی کی موجودہ صورت حال کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے حالات کے پیش نظر تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، لیکن ان کے خلاف الزامات لگائے گئے تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہر شخص کے کردار اور مختلف معاملات کی حقیقت معلوم ہے اور ان کے پاس ایک ایک بات کا ریکارڈ موجود ہے۔ گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

آڈیو پیغام کے اختتام پر سابق وزیراعلیٰ نے سہیل آفریدی کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا لحاظ کرتے ہوئے خاموش ہیں، لیکن دوسری جانب ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ متعلقہ معاملات پر تفصیل سے جواب دیں گے۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا قیادت کے درمیان اختلافات پہلے بھی منظرعام پر آچکے ہیں۔ رواں سال مئی میں بھی سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

اس سے قبل پشاور میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ان سے پہلے اسلام آباد مارچ کرنے والے بعض افراد ’فکس میچ‘ کھیلتے تھے، تاہم ان کے بقول اس بار وہ ضرور کامیاب ہوں گے اور کارکنوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.