اسلام آباد: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا معاملہ ایک بار پھر خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی سے جڑ گیا ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے بغیر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات اسی وقت دوبارہ شروع ہوں گے جب خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے معاملے پر اپنا کردار ادا کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان کی مذاکراتی عمل میں شمولیت سے کسی بڑے بریک تھرو کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں۔ ان کے مطابق بنیادی معاملہ خیبرپختونخوا حکومت کے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کردار سے متعلق ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور آپریشن کی کامیابی کیلئے صوبائی حکومت کا تعاون ضروری ہے۔ اگر خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو معاملہ حل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو دہشتگردی کے خلاف کارروائی کی کامیابی کیلئے وفاقی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی فرد یا جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے دہشتگردوں سے مذاکرات کی تجویز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات کیا ہیں، اس معاملے پر بھی غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر کے ساتھ رابطے موجود ہیں۔ دونوں جانب مؤقف مختلف ہوسکتا ہے، تاہم سیاسی رابطے برقرار ہیں۔