یوکرین پر روسی میزائل اور ڈرون حملے، 32 افراد ہلاک
کیف: یوکرین میں روسی میزائل اور ڈرون حملوں نے ایک بار پھر شہری آبادی کو شدید متاثر کیا ہے، مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوگئے جبکہ رہائشی عمارتوں سمیت متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
یوکرین کے شمالی علاقے چرنی ہیف کے شہر پریلوکی میں روسی میزائل ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے۔ امدادی کارکن تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف میں بھی روسی حملوں کے بعد ایک رہائشی عمارت سے مزید دو لاشیں برآمد ہوئیں، جس کے بعد دارالحکومت میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہوگئی۔ حکام کے مطابق حملوں میں بچوں سمیت متعدد افراد متاثر ہوئے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے رات کے دوران 70 میزائل داغے، جن میں بڑی تعداد تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کی تھی، جبکہ مختلف شہروں پر درجنوں شاہد ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔
زیلنسکی کے مطابق کیف، اولیکساندریا اور کریمنچک سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ دارالحکومت کے قریب ڈرون کا ملبہ گرنے سے بھی دو افراد ہلاک ہوئے۔
پریلوکی میں امدادی ٹیموں نے ملبے سے 15 افراد کو زندہ نکال لیا، جبکہ مقامی حکام کے مطابق شہر میں تقریباً 55 افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس کی جانب سے داغے گئے 46 جیٹ سے چلنے والے ڈرونز میں سے 80 فیصد سے زیادہ کو روک لیا گیا، تاہم یوکرینی صدر نے بیلسٹک میزائلوں کو ملک کیلئے سب سے بڑا دفاعی چیلنج قرار دیتے ہوئے مزید پیٹریاٹ دفاعی نظام فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا یورپی یونین نے یوکرین کیلئے ایک ارب 20 کروڑ یورو کی نئی مالی امداد فراہم کی ہے، جسے دفاعی ضروریات کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ حملوں کے دوران کیف کے شہریوں نے زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لی جبکہ یوکرین کی جانب سے بھی روسی اہداف کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔