پشاور- خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو 4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی میں مشاورت کے بعد متفقہ طور پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کے راستے میں مبینہ رکاوٹوں، کنٹینرز رکھنے اور خیبرپختونخوا اور پنجاب کی سرحد پر مبینہ طور پر سڑکوں میں کیلیں نصب کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ کرنے کے مترادف ہیں۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری اہلکاروں کے ساتھ دوسرے صوبے کے اہلکاروں کی جھڑپیں ہوئی ہیں اور صوبائی وزرا کی گرفتاریوں اور مبینہ تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے باوجود پی ٹی آئی اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور کارکن 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔ ان کے مطابق پارٹی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان مشاورت کے بعد کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے ریاستی اداروں اور حکمرانوں سے سیاسی معاملات میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہیں بڑھنا چاہیے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کی گنجائش ختم ہوجائے۔
سہیل آفریدی نے صوبائی سیکریٹریٹ اور ایک مسجد کو سیکیورٹی خدشات کے باعث بند کیے جانے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر خطرات کے حوالے سے پیش کیے گئے جواز درست نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ انتظامی اقدامات اور رکاوٹوں سے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ سے دستبردار کیا جاسکتا ہے تو یہ درست اندازہ نہیں، پارٹی 4 اکتوبر کو اپنے اعلان کے مطابق اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگی۔