اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کا دباؤ ایک بار پھر بڑھ گیا، سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 10.64 فیصد سے بڑھ کر 11.92 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ایک ہفتے کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے تیسرے ہفتے کے دوران مہنگائی کی رفتار میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.99 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 20 اشیائے ضروریہ مہنگی، 10 سستی جبکہ 21 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی قیمت میں 18.76 فیصد، لہسن 1.57 فیصد، ایل پی جی 1.55 فیصد، انڈے 2.02 فیصد اور چکن کی قیمت میں 0.72 فیصد اضافہ ہوا۔ دال مسور، دال چنا، واشنگ سوپ، مٹن، بیف، دودھ، دہی اور آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب ہفتہ وار بنیاد پر ٹماٹر کی قیمت میں 13.45 فیصد، آلو 8.33 فیصد، کیلے 5.66 فیصد اور پیاز 2.42 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح چینی، سرسوں کے تیل، گڑ، نمک، پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق مختلف آمدنی والے طبقات پر مہنگائی کا اثر بھی مختلف رہا۔ 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 9.69 فیصد، 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 11.37 فیصد اور 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 9.85 فیصد رہی۔
29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 10.20 فیصد جبکہ 44 ہزار 176 روپے سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے یہ شرح 12.31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
دریں اثنا، ملک میں سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 53 ہزار 36 روپے کا ہوگیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 3 لاکھ 88 ہزار 404 روپے تک پہنچ گئی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں 47 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی اونس سونا 4 ہزار 305 ڈالر کا ہوگیا۔