تازہ ترین

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کے لیے برآمدات بڑھانے کی ضرورت، وزیر خزانہ

0

پاکستان نے عالمی منڈیوں میں اپنی معاشی پوزیشن مضبوط بنانے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ڈبل بی درجے تک پہنچانے کے لیے برآمدات میں اضافے، آئی ٹی شعبے کی ترقی اور قرضوں کے پائیدار انتظام کو اہم قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت بہتر بنانا اور برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ضروری ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے یہ بات تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور عالمی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر امریکی محکمہ خزانہ کی انڈر سیکریٹری برائے بین الاقوامی امور ایرن براؤن سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد بھی موجود تھے۔

ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کیے، جبکہ صکوک، پانڈا بانڈز اور دیگر مالیاتی ذرائع کے ذریعے وسائل کے حصول کو متنوع بنانے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس اصلاحات اور مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرنے سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

ملاقات میں علاقائی تنازعات کے توانائی، مہنگائی اور غذائی تحفظ پر اثرات، رسد کا تسلسل برقرار رکھنے اور موسم سرما میں توانائی کی طلب پوری کرنے کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے نجکاری، ہوائی اڈوں کے انتظامی امور آؤٹ سورس کرنے، بوئنگ کے ساتھ روابط اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ مالی معاونت پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب وزیر خزانہ نے ڈوئچے بینک کے وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں مالیاتی حکمت عملی، عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی اور نجکاری کے امور زیر بحث آئے۔ ملاقات میں یورو بانڈز، پانڈا بانڈز، صکوک اور دیگر مالیاتی ذرائع کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں میں پاکستان کی واپسی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ روپے اور ڈالر میں ادائیگی کے حامل بانڈز اور یورو بانڈز کو ٹوکنائز کرنے کے ممکنہ منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.