پاکستان میں بجلی کے گھریلو صارفین کے لیے سبسڈی کا نظام تبدیل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس کے تحت بعض صارفین کے بجلی نرخوں میں فی یونٹ 7 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجوزہ نظام میں گھریلو آمدن کو مدِنظر رکھتے ہوئے مالی معاونت کا تعین کیا جائے گا۔
مجوزہ منصوبے کے تحت بجلی صارفین کے ریکارڈ کو ایک نئے سماجی و معاشی رجسٹری نظام سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ گھرانوں کی آمدن کا جائزہ لے کر سبسڈی کی تقسیم کا طریقہ کار طے کیا جاسکے۔
موجودہ نظام کے تحت مختلف گھریلو صارفین کو ماہانہ بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ لائف لائن صارفین کو 50 یونٹ تک استعمال پر 2.83 روپے فی یونٹ جبکہ 51 سے 100 یونٹ تک استعمال پر 3.76 روپے فی یونٹ سبسڈی ملتی ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 1 سے 100 یونٹ تک 18 روپے اور 101 سے 200 یونٹ تک 18.42 روپے فی یونٹ سبسڈی مقرر ہے۔
نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بھی بجلی کے استعمال کے مطابق سبسڈی کی شرح مختلف ہے۔ 100 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 7.83 روپے فی یونٹ، 101 سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 4.85 روپے اور 201 سے 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 3.94 روپے فی یونٹ سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ 400 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے یہ شرح 65 پیسے فی یونٹ بتائی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق مجوزہ نظام کے تحت 100 سے 400 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے بعض گھریلو صارفین کے نرخوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، جو فی یونٹ 7 روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم، اضافے کا اصل حجم اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت گھرانوں کی آمدن کی درجہ بندی اور سبسڈی میں ردوبدل کیسے کرتی ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 100 سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے بعض نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 18 روپے اضافے کا ذکر موجود ہے۔ یہ رقم بعض گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ 7 روپے تک اضافے کی رپورٹ سے مختلف ہے، اس لیے مختلف صارفین پر مجوزہ تبدیلیوں کے اطلاق کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
حکومت بجلی صارفین کے ریکارڈ کو سماجی و معاشی رجسٹری سے منسلک کرنے کی تیاری کر رہی ہے، تاہم نئے نظام کے نفاذ کی تاریخ اور سبسڈی سے محروم ہونے والے صارفین کی تفصیلات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔