پشاور: خیبرپختونخوا میں مسلسل سیکیورٹی چیلنجز اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں وفاقی وزیر امیر مقام نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی مطالبات اور دیگر معاملات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ Jang
وفاقی وزیر نے بعض صوبائی قانون سازی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری پر زیادہ اختیار حاصل کرنا چاہتی ہے، جس سے پولیس کے انتظامی امور اور کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔
امیر مقام نے دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے افغانستان اور طالبان کے ساتھ دوبارہ روابط بڑھانے کی تجاویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے مسئلے کو مؤثر انداز میں حل کرنے کے لیے واضح پالیسی ضروری ہے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ اب 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج ایک قانونی اختیار ہے اور موجودہ صورتحال میں اس حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کا ان کا مؤقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد سیکیورٹی صورتحال پر سیاسی سطح پر بھی بحث جاری ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی درازندہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور عوام کو اعتماد میں لینے پر زور دیا ہے۔