تازہ ترین

افغان طالبان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کریں، پاکستان

0

اسلام آباد: وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی دونوں ممالک کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے، جبکہ پاکستان کے لیے دہشت گردی ایک ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی ذمہ دار ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے مسلسل گریز پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر الزام تراشی اور کھوکھلی یقین دہانیاں بحران کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتیں، اس لیے افغان طالبان قیادت کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔ شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کے عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انگوراڈہ کے سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحقہ علاقوں میں بھاری ہتھیاروں سے کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انہیں اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ سیکیورٹی ذرائع نے کارروائی میں طالبان کے متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی دی ہیں۔

ادھر امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر شدید تشویش ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ان چیلنجز سے نمٹنا ضروری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.