تازہ ترین

قومی اسمبلی نے ہراسانی کے خلاف تحفظ کا دائرہ وسیع کرنے کی قرارداد منظور کرلی

0

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے دائرہ کار سے متعلق اہم قرارداد منظور کرلی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ صنفی امتیاز، دھمکانے، تذلیل، توہین آمیز سلوک اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی اور خواتین پارلیمانی کاکس کی سیکریٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

قرارداد میں پارلیمنٹ نے آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی وقار کے تحفظ اور آرٹیکل 25 کے تحت شہریوں کی مساوات کے اصولوں کی پاسداری کا عزم ظاہر کیا۔ اس میں کہا گیا کہ ہر فرد کو کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کی تمام اقسام سے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

قرارداد کے مطابق کام کی جگہ پر ہراسانی میں صنفی بنیادوں پر امتیاز، دھمکانا، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخالفانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی شامل ہے، خواہ ان کا تعلق جنسی نوعیت کے طرز عمل سے ہو یا نہ ہو۔

ایوان نے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے کے قانون 2010 اور اس میں 2022 میں کی گئی ترامیم کے تحت حاصل قانونی تحفظات کی بھی توثیق کی۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ جنسی پیش قدمی یا مطالبے کی عدم موجودگی سے صنفی بنیادوں پر ہونے والی ہراسانی اور امتیازی سلوک کی سنگینی کم نہیں ہوتی۔

قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کسی فرد کو صرف اس بنیاد پر قانونی تحفظ سے محروم نہ رکھا جائے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ہراسانی جنسی نوعیت کی نہیں تھی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی، تذلیل اور صنفی امتیاز سے پاک ماحول کوئی رعایت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کی بنیادی ضرورت ہے۔

اگرچہ قرارداد میں کسی مخصوص واقعے کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم حالیہ دنوں میں وکلا اور صحافیوں نے وفاقی آئینی عدالت کے ایک فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے نیشنل بینک آف پاکستان کے ایک ملازم کی جانب سے 2012 میں دائر کیے گئے کام کی جگہ پر ہراسانی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.