اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کا اجلاس، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال زیر بحث
اٹلانٹا: امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی میزبانی میں جی 20 وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں شروع ہوگیا ہے، جس میں عالمی تنازعات، توانائی کی صورتحال، سمندری تجارت اور معاشی سلامتی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ اجلاس دسمبر میں میامی میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث بڑی معیشتوں کے درمیان اختلافات اجلاس میں مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت بھی توجہ کا مرکز ہے۔ یورپی سفارتی حلقوں نے روس کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ لاوروف عالمی اقتصادی پابندیوں کے خلاف روس کا مؤقف پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن نے عالمی ایندھن کی فراہمی سے متعلق مسائل کے تناظر میں روسی حکام کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں۔
عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی بے یقینی بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔ امریکی حکام رکن ممالک پر زور دیں گے کہ وہ اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کے اصول کی حمایت کریں۔ تاہم اس معاملے پر چین کی جانب سے ماضی میں بعض تحفظات سامنے آچکے ہیں۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اجلاس میں شرکت کے لیے اٹلانٹا نہیں پہنچے، بلکہ بیجنگ کی نمائندگی کے لیے اپنے نائب کو بھیجا ہے۔ اس صورتحال میں توانائی کے تحفظ اور سمندری راستوں سے متعلق مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے جی 20 فورم پر معاشی ترقی، ضابطوں میں آسانی اور تجارت کے فروغ کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عالمی بحرانوں کے دوران معاشی خوشحالی اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ اہم ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے لیے سپلائی چین کے مسائل حل کرنا بھی ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سفارتی وفود دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں علاقائی سلامتی اور دیگر اہم امور پر گفتگو متوقع ہے۔
اٹلانٹا کا یہ اجلاس دسمبر میں میامی میں ہونے والی جی 20 سربراہی کانفرنس سے قبل رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے کی اہم آزمائش ہوگا۔ اس کے نتائج سے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ عالمی رہنما موجودہ سیاسی اور معاشی اختلافات کے باوجود مشترکہ ترجیحات پر کس حد تک متفق ہوسکتے ہیں۔