اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے حکومتی شرائط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی کو دہشتگردی کی کھل کر مذمت کرنا اور اس کے خلاف ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے حکومت کی بنیادی شرائط واضح ہیں۔ پی ٹی آئی کو دہشتگردوں کو دہشتگرد کہنا ہوگا اور دہشتگردی کروانے والوں کے خلاف کارروائی میں ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے معاملے پر مبہم یا نرم رویہ اختیار کرنے سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ پی ٹی آئی کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ ملک میں دہشتگردی کے پیچھے کون سے عناصر ہیں اور ہمسایہ ممالک سے آنے والی مبینہ پراکسی سرگرمیوں کے بارے میں اس کا کیا مؤقف ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر بھی واضح مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن خواتین کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے معاملے پر حکومت حساس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر کی درخواست پر عمران خان کی بہنوں کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی ہے، جبکہ ان کے علاج سے متعلق مزید درخواست بھی وزیر داخلہ اور حکومت کے سامنے رکھی جائے گی۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ خواتین کے معاملے کو سیاسی ہمدردی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات کا حل پارلیمنٹ اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی خودمختاری، ملک کے دفاع اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بعض سیاسی بیانات پر متعلقہ رہنماؤں کو اپنے الفاظ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں واپس بھی لینا ہوگا۔
ملک میں مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عالمی بحران کے باعث دنیا بھر میں پیٹرولیم قیمتیں بڑھی ہیں، جس کے اثرات پاکستانی عوام پر بھی پڑ رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کو مل کر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔