تازہ ترین

وزیراعظم کا پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کا افتتاح، مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کی ہدایت

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کی تزئین و بحالی کے بعد افتتاح کردیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملک بھر سے آنے والے مریضوں کو مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے وسائل انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال ہونے چاہئیں اور انہیں ادارہ جاتی غفلت کے باعث ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

وفاقی وزیر قومی صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو اسپتال کی بحالی سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ طبی مرکز کورونا وبا کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کو تحفے میں دیا گیا تھا، جسے آئسولیشن ہاسپٹل اینڈ انفیکشس ٹریٹمنٹ سینٹر کے نام سے قائم کیا گیا تھا، تاہم وبا ختم ہونے کے بعد یہ غیر فعال ہوگیا اور کئی سال تک بند رہا۔

انہوں نے بتایا کہ اب اسے پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کے نام سے دوبارہ فعال کیا گیا ہے، تاکہ اس قومی اثاثے کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نے مریضوں سے ملاقات بھی کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پیشہ ورانہ انداز میں چلائے جانے والے طبی اداروں کے ذریعے عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرے گی۔

بحال کیے گئے اسپتال میں مجموعی طور پر 182 بستروں کی گنجائش ہے، جن میں انتہائی نگہداشت کے 50 بستروں پر مشتمل یونٹس بھی شامل ہیں۔ اسپتال سے اسلام آباد، راولپنڈی، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر علاقوں کے مریض مستفید ہوسکیں گے۔

نئے انتظامی نظام کے تحت مریضوں کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی، جبکہ انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسپتال کا انتظام اور طبی مہارت فراہم کرے گا، تاکہ خدمات کی فراہمی مؤثر اور معیاری بنائی جاسکے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اسپتال کی طویل عرصے تک بندش پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے غریب و مستحق افراد کی ضروریات سے غفلت کی ایک تکلیف دہ مثال قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اخباری رپورٹ کے ذریعے اسپتال کی صورتحال کا علم ہونے پر انہوں نے فوری نوٹس لیا اور وزیر صحت کو ادارے کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ اسپتال چینی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک قیمتی تحفہ تھا، جو چینی صدر شی جن پنگ کے عالمی تعاون اور انسانی فلاح و بہبود کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اسپتال کی کئی سالہ بندش پر چینی سفیر اور چین کے عوام سے معذرت بھی کی۔

شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت علاج کے 100 فیصد اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسپتال کا انتظام سنبھالے گا۔

انہوں نے کہا کہ انڈس ہاسپٹل نیٹ ورک کے زیر انتظام چلنے والے دیگر اسپتالوں کے تجربے نے انہیں یقین دلایا ہے کہ سرکاری طبی اداروں کا انتظام قابل اور پیشہ ورانہ تنظیموں کے سپرد کرنے سے خدمات کا معیار، کارکردگی اور جواب دہی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.