تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت

0

کراچی: بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ثاقب صداقت نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے اس کا دائرہ جنوبی ایشیا اور خلیج بنگال تک وسیع ہوسکتا ہے، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی تعاون سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

کراچی میں اکنامک ڈپلومیسی فورم اور بنگلہ دیش ڈپٹی ہائی کمیشن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار بعنوان ’’پاکستان بنگلہ دیش اقتصادی ہم آہنگی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا نیا دور‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے محمد ثاقب صداقت نے کہا کہ مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت پر دوبارہ غور کرنے سے موجودہ رکن ممالک کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی شمولیت سے یہ معاہدہ خلیجی خطے تک محدود رہنے کے بجائے جنوبی ایشیا میں بھی تعاون کا وسیع پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔

بنگلہ دیشی ڈپٹی ہائی کمشنر نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی علاقائی امن کے لیے حالیہ کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش مشترکہ تربیت، رابطہ کاری اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں حصہ لینے والے ممالک میں شامل ہے۔

اقتصادی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کپاس، دھاگے، ادویات، زراعت، غذائی مصنوعات، کیمیکلز، جوٹ، چمڑے کی مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، رئیل اسٹیٹ، طبی سہولیات، فیشن اور دیگر خدمات کے شعبوں میں شراکت داری بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستانی کاروباری اداروں کو بنگلہ دیش میں مینوفیکچرنگ، تعمیرات، بینکاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، مالیاتی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، آئی ٹی اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔

محمد ثاقب صداقت نے کہا کہ جامعات اور پیشہ ورانہ اداروں کے تعاون سے تحقیق اور تربیت کے شعبوں میں شراکت داری سے ہنرمندی کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدت کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان بنگلہ دیش مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام اور مشترکہ تجارتی کمیشن کے پہلے اجلاس کو بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم کاروباری شراکت دار تلاش کرنے، مارکیٹ سے متعلق معلومات کے تبادلے اور تجارتی تعاون کا لائحہ عمل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ کاروباری ڈائریکٹریز، ڈیجیٹل تجارتی روابط اور کاروباری ملاقاتوں کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی آسان بنائی جاسکتی ہے۔ خواتین کاروباری شخصیات اور نوجوان جدت کاروں کو بھی ان مواقع میں شامل کرنا ضروری ہے۔

بنگلہ دیشی ڈپٹی ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کی لیبر مارکیٹ کے لیے مناسب لاگت پر ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اکنامک ڈپلومیسی فورم کے بانی صدر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اقتصادی سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو زبیر موتی والا اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی روابط بڑھانے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران بنگلہ دیش ڈپٹی ہائی کمیشن کراچی اور اکنامک ڈپلومیسی فورم پاکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط، سیمینارز، کانفرنسز، تجارتی وفود کے تبادلوں اور اقتصادی معلومات کے اشتراک کو فروغ دینا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.