اسلام آباد: اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے آئینی عمل سے متعلق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پارلیمانی نمائندگی تبدیل ہوگئی ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ کو کمیشن کا رکن مقرر کردیا گیا ہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں رہنماؤں کی تقرری چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی منظوری کے بعد عمل میں آئی، جو جوڈیشل کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 175 اے کی شق 2 کے پیراگراف سات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کو قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان کی نامزدگی پر جبکہ رانا ثناء اللہ کو سینیٹ میں قائدِ ایوان کی نامزدگی پر کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو قومی اسمبلی کے رکن ہیں، جبکہ رانا ثناء اللہ سینیٹ میں قائدِ ایوان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کو حکومتی بنچوں کی نمائندگی کے لیے کمیشن میں شامل کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت سے قبل کمیشن سے متعلق ذرائع نے بتایا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کمیشن کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب کے استعفوں کے بعد کمیشن میں پارلیمانی نمائندگی کی ممکنہ تبدیلی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے پسندیدہ امیدواروں کی نامزدگی سے متعلق پیپلز پارٹی کی قیادت میں مبینہ عدم اطمینان کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کا آئینی ادارہ ہے۔ عدالتی نظام میں دیگر متعلقہ فورمز میں سپریم جوڈیشل کونسل شامل ہے، جو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف مبینہ بدعنوانی یا بدعملی کی شکایات سنتی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی بنچوں کی تشکیل اور مقدمات کی فہرست بندی سے متعلق امور دیکھتی ہے۔