اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مندی، انڈیکس میں 500 سے زائد پوائنٹس کمی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر مندی کا رجحان برقرار رہا، جہاں دوپہر کے کاروبار کے دوران انڈیکس 544.01 پوائنٹس کمی کے بعد 170,221.21 پوائنٹس پر آ گیا۔
دوپہر 12 بجے تک انڈیکس میں 0.32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مارکیٹ میں مجموعی طور پر 44.21 ملین شیئرز کا کاروبار ہو چکا تھا۔
صبح کے ابتدائی کاروبار میں بھی مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا تھا، جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 500 پوائنٹس تک گر گیا تھا۔
مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حصص میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے حبکو پاور، ماری پیٹرولیم، او جی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل اور حبیب بینک کے شیئرز بھی منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
مارکیٹ میں مندی ایسے وقت میں دیکھی جا رہی ہے جب سرمایہ کار ملکی اور عالمی سطح پر جاری معاشی اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دریں اثنا، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان نے نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے بوئنگ طیاروں کی خریداری کی غرض سے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک سے ممکنہ فنانسنگ پر بات چیت کی ہے۔
تاہم ان کے مطابق پی آئی اے کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قرض یا خودمختار ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار محتاط اور محدود دائرے میں رہا تھا۔
جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیاسی پیش رفت کے باعث سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔
جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 119.37 پوائنٹس یعنی 0.1 فیصد کمی کے بعد 170,765.22 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بھی پیر کو بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان رہا، امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس سے عالمی مارکیٹس پر دباؤ برقرار رہا۔
ہفتے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کر دی تھی اور کہا تھا کہ مذاکرات رواں ہفتے جاری رہیں گے۔
ایشیا میں جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً مستحکم رہا، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ 2.4 فیصد گر گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس بھی 0.6 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔