اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے موقع پر شہریوں کے حقِ معلومات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری معاشرے میں عوام کی بامعنی شرکت کے لیے بروقت، مستند اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ آئین پاکستان شہریوں کے حقِ معلومات کے لیے واضح بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں آرٹیکل 19-اے شامل کیا گیا، جس کے تحت ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت عائد ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ وفاقی سطح پر رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 بھی شہریوں کو معلومات تک رسائی کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے معلومات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کردیا ہے۔
صدر مملکت کے مطابق موجودہ دور میں چیلنج صرف معلومات کی دستیابی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ شہری قابلِ اعتماد معلومات اور جھوٹی، گمراہ کن یا مصنوعی طور پر تبدیل شدہ معلومات میں فرق کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستی و غیر ریاستی عناصر، دہشتگرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس سمیت دیگر طاقتور عناصر معلومات کو مسخ یا اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں عوام دوست صحافیوں، میڈیا اداروں، ابلاغی ماہرین، محققین اور دیگر ماہرین کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے، جو شہریوں کو تیزی سے بدلتے ہوئے معلوماتی ماحول میں درست اور قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔
صدر مملکت نے زور دیا کہ شہریوں کے حقِ معلومات کے تحفظ کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ غلط اور گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کی کوششیں عوامی مفاد میں صحافت، منصفانہ تنقید اور بامعنی عوامی مباحثے کو دبانے کا ذریعہ نہ بنیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ سرکاری اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور ذمہ دارانہ ابلاغ ناگزیر ہیں۔ شہریوں کو خصوصاً ان معاملات میں معتبر ذرائع سے قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہونی چاہئیں جو براہِ راست ان کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔