اسلام آباد- خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے گورنر راج کے امکان پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس آپشن پر پسِ پردہ کام جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر آئینی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبے میں متعدد آپشنز زیر غور ہیں اور آئین پاکستان گورنر راج کا قانونی راستہ فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق عوام صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور وزیراعلیٰ نے اب تک شہدا کے جنازوں میں شرکت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو تبدیل نہ کرنے کا امکان ہے، کیونکہ ان کے بقول وہ اچھے سیاستدان اور قابل منتظم ہیں۔
وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں آئی جی کی تعیناتی وفاقی حکومت کی منظوری سے ہوتی ہے، تاہم پولیس ایکٹ میں تبدیلیوں کے ذریعے وفاق کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس جیسے سیاسی رہنما صورتحال کو سمجھتے ہیں، جبکہ محمود خان اچکزئی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے خاطر خواہ تعاون نہیں کیا جا رہا۔
پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی تیاریاں مکمل ہیں اور 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے بھی حکومت اپنی حکمت عملی کے مطابق اقدامات کرے گی۔