ایپل کو 5.7 ارب ڈالر کا جھٹکا، پیٹنٹ کیس میں ریکارڈ جرمانہ
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو آئی فون اور ایپل واچ میں استعمال ہونے والی ہیپٹک ٹیکنالوجی سے متعلق پیٹنٹ مقدمے میں بڑا قانونی دھچکا لگا ہے، جہاں امریکی وفاقی جیوری نے کمپنی کو 5.7 ارب ڈالر سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
سان ڈیاگو کی وفاقی عدالت میں جیوری نے قرار دیا کہ ایپل کا ’’ٹیپٹک انجن‘‘ ٹیکشن ٹیکنالوجی کے دو پیٹنٹس میں شامل حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صارف کو آئی فون اور ایپل واچ پر لمس اور ارتعاش کے ذریعے ردعمل محسوس کرانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ٹیکشن کے وکیل نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیوری کے فیصلے سے کمپنی کے پیٹنٹ حقوق کی توثیق ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایپل نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ٹیپٹک انجن ٹیکشن کی ٹیکنالوجی سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور کمپنی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔
ٹیکشن نے 2021 میں ایپل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ 2023 میں ایک وفاقی جج نے ابتدائی طور پر ایپل کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم بعد میں وفاقی اپیل عدالت نے مقدمے کو دوبارہ آگے بڑھانے کی اجازت دی، جس کے بعد حالیہ جیوری فیصلہ سامنے آیا۔
جیوری نے ایپل کی جانب سے مبینہ خلاف ورزی کو دانستہ قرار نہیں دیا، تاہم ہرجانے کی رقم 5.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایپل نے واضح کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔