نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں دنیا بھر میں بڑھتے تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے تصادم کے بجائے مذاکرات، جبر کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے، جبکہ بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے حصے کے دریائی پانی کو روکنے، محدود کرنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ The Express Tribune
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ایک خطرناک دور سے گزر رہی ہے، تاہم مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں۔ ان کے مطابق جنگ ایک انتخاب ہے تو امن بھی ایک انتخاب ہے اور بعض اوقات جنگ شروع کرنے کے بجائے اسے روکنے میں زیادہ حوصلہ درکار ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میزائلوں، ڈرونز اور فائرنگ کے شور میں سفارت کاری کی آواز مزید بلند ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی کشیدگی شروع ہونے کے بعد واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کے لیے اہم آبی راستے قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ راستے ممالک کو جوڑنے اور معاشی خوشحالی کا ذریعہ رہنے چاہئیں، انہیں تنازع کے مراکز میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کو مبینہ نشانہ بنانے کی کوشش کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو خطرے میں ڈالنے کی کوئی کوشش قابل قبول نہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ خطے کے دفاع، استحکام اور امن کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا جبکہ مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کارروائی کا جواب پیشہ ورانہ انداز میں دیا۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس موقع پر کی گئی مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول اس اقدام نے دونوں جوہری ممالک کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
کشمیر کے مسئلے پر وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل ضروری ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔
پانی کے مسئلے پر وزیراعظم نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان اور خطے کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو پاکستان جنگی اقدام تصور کرے گا۔
فلسطین کی صورتحال پر وزیراعظم نے غزہ میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ بھی دنیا کے کسی دوسرے بچے کی طرح زندگی، مستقبل اور خواب کا حق نہیں رکھتا۔ انہوں نے مغربی کنارے، لبنان اور شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
دہشت گردی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کی قربانی دی جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کریں۔ وزیراعظم نے افغان عوام، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے احترام پر بھی زور دیا۔
شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے اسلاموفوبیا، مساجد پر حملوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی جیسے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، لیکن موسمیاتی بحران کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی مالی معاونت کے وعدے پورے کرنے اور متاثرہ ممالک کے لیے مالی و تکنیکی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد چند ممالک کے خصوصی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اکثریتی ممالک کی امنگوں کی عکاسی ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو اعتماد بحال کرنے اور امن کے تحفظ کا انتخاب کرنا ہوگا، کیونکہ تقسیم شدہ دنیا میں بھی انسانیت متحد ہوکر آگے بڑھ سکتی ہے۔