داڑھی اور نماز سے متعلق طالبان کے نئے تادیبی احکامات جاری`خلاف ورزی پر تنخواہ کٹوتی اور برطرفی کا حکم
کابل: طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغان حکومت کے زیر انتظام اداروں میں مقرر کردہ اخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہدایت کردی ہے، جس کے تحت بعض خلاف ورزیوں پر تنخواہوں میں کٹوتی، عہدے میں تنزلی، معطلی اور ملازمت سے برطرفی کی سزائیں دی جا سکیں گی۔
نئی ہدایات کے مطابق سرکاری ملازمین کی داڑھی مقررہ معیار سے کم رکھنے، ننگے سر نماز پڑھنے اور باجماعت نماز میں غیر حاضری سمیت بعض دیگر خلاف ورزیوں پر کارروائی کی جائے گی۔ ہدایات میں ملازمین کی ظاہری وضع قطع اور مذہبی معمولات سے متعلق پہلے سے نافذ ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کا بھی کہا گیا ہے۔
موصولہ مراسلے کے مطابق نئی تادیبی تدابیر کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ طالبان انتظامیہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری ملازمین کے لباس، ظاہری وضع قطع اور طرزِ عمل سے متعلق متعدد پابندیاں پہلے ہی نافذ کر چکی ہے۔
اس سے قبل افغان سرکاری ملازمین کے لیے داڑھی رکھنا، باجماعت نماز ادا کرنا، طالبان انتظامیہ کی تجویز کردہ طرز کا لباس پہننا اور دوران ڈیوٹی عمامہ باندھنا لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
22 ستمبر کو ننگرہار یونیورسٹی کو بھیجے گئے تازہ مراسلے میں سرکاری ملازمین کے لیے نئی ہدایات اور ان کی خلاف ورزی پر مقرر کی جانے والی سزاؤں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
دستاویز کے مطابق جن ملازمین کی داڑھی مقررہ مذہبی معیار کے مطابق نہیں ہوگی یا جو باجماعت نماز کے دوران عمامہ نہیں پہنیں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہدایات میں بالوں اور داڑھی کی کٹائی بھی مقررہ مذہبی اصولوں کے مطابق رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنے والے ملازمین کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکم نامے میں سرکاری ملازمین کے لیے باجماعت نماز میں شرکت کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر مختلف سزاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ننگرہار یونیورسٹی میں نگرانی کمیٹی کے سربراہ سجاوند صافی نے مراسلے کی تصدیق کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے رپورٹ نگرانی کمیٹی کو ارسال کی جائے۔
ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو نماز، فقہ حنفی کی بنیادی تعلیمات اور اسلامی نظام کی اطاعت سے متعلق دینی رسائل اور کتب کی تعلیم بھی فراہم کی جائے گی۔