تازہ ترین

اسلام آباد میں احتجاجی دھرنوں کے خلاف حکومتی پالیسی مزید سخت

0

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں احتجاجی دھرنوں اور ممکنہ بدامنی کی روک تھام کے لیے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے، جبکہ حکومتی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہوکر امن و امان متاثر کرنے یا عوامی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے پیدا ہونے والی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پالیسی اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ رابطے جاری ہیں تاہم باضابطہ مذاکرات کے لیے لانگ مارچ مؤخر کرنا ضروری ہوگا

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں کسی کو زبردستی داخل ہونے یا دارالحکومت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران قانون اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کو اپنے احتجاج پر یقین ہے تو اسے لانگ مارچ کرکے دکھانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی احتجاج اور دھرنوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے پی ٹی آئی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ تعلقات کے حوالے سے بھی سخت الزامات عائد کیے، تاہم یہ الزامات حکومتی مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبے میں غیر قانونی معاہدوں اور کان کنی کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور امن و امان کی ذمہ داری پوری کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.