شام کا مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سے مذاکرات
منامہ: شام نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر باضابطہ مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دمشق کی جانب سے دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام خطے کی سلامتی کا ایک اہم حصہ ہے اور ایسے علاقائی فریم ورک کی حمایت کرتا ہے جو مشترکہ دفاع، علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
اسعد الشیبانی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کو موجودہ حالات میں مشترکہ دفاعی اور مؤثر بازدار قوت کے نظام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ خطے کے ممالک کو سکیورٹی کے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں سال اگست میں طے پایا تھا۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے میں دفاعی تعاون کے فروغ، فوجی رابطوں میں بہتری، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
شام کی ممکنہ شمولیت سے اس دفاعی تعاون کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے، تاہم دمشق کی جانب سے معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔