پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسف زئی نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی آمد سے صوبے کے لیے بڑے ترقیاتی پیکیج کی توقع تھی، تاہم وزیراعظم نے مایوس کیا۔
اپنے بیان میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ دودھ اور شہد کی نہریں کہاں ہیں جو آپ نے خیبر پختونخوا میں بہانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں 14 یونیورسٹیاں، بی آر ٹی اور سوات موٹروے تحریک انصاف کے دور کے منصوبے ہیں، جبکہ صحت کارڈ نے نظام صحت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وہی الزامات دہرائے جو ان کے وزراء ٹی وی پر لگاتے رہتے ہیں۔ اگر احتساب کرنا ہے تو ضرور کیا جائے، لیکن صرف الزامات لگانے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس بی آر ٹی منصوبے کو کرپشن کا شاہکار قرار دیا جاتا تھا، وہ دو بین الاقوامی ایوارڈز حاصل کر چکا ہے۔
شوکت یوسف زئی نے سوال اٹھایا کہ اگر تحریک انصاف نے کچھ نہیں کیا تو عوام اسے ووٹ کیوں دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور موجودہ معاشی مشکلات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول صرف لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے ملک میں خوشحالی نہیں آ سکتی۔
پی ٹی آئی رہنما نے ملک میں سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ڈائیلاگ کی جتنی ضرورت ہے، ماضی میں کبھی اتنی نہیں تھی۔ کسی دوسرے فریق کا انتظار کرنے کے بجائے تحریک انصاف کو خود مذاکرات کے لیے پہل کرنی چاہیے۔
انہوں نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور پھر سمیع اللہ تک بات پہنچنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
شوکت یوسف زئی نے بیرون ملک مقیم بعض یوٹیوبرز کے بیانیے کو تحریک انصاف کا مؤقف قرار دینے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ شہزاد اکبر جیسے افراد نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بیٹھ کر تنقید اور مشورے دینا آسان ہے، جبکہ پارٹی کے رہنما اور کارکن ملک میں رہ کر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے شہزاد اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پارٹی سے وابستگی ہے تو پاکستان واپس آ کر اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔