ایران کی باقی ماندہ ایٹمی تنصیبات 10 منٹ میں نشانہ بنا سکتے ہیں، ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی باقی ماندہ مشتبہ ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس ان مقامات کو صرف 10 منٹ میں تباہ کرنے کا منصوبہ موجود ہے۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار آ لاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی مسلح افواج اور ایٹمی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب صرف ایک یا دو مقامات باقی رہ گئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ان تنصیبات کے خلاف کارروائی کے لیے منصوبہ تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں انتہائی کم وقت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پِک ایکس ماؤنٹین میں واقع مشتبہ ایٹمی تنصیب کا بھی حوالہ دیا۔
ٹرمپ نے یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی مذاکرات سے متعلق سوالات کے جواب میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوئی جلدی نہیں کیونکہ امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام، فوجی سازوسامان اور ایٹمی بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے ممکنہ وقت سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ امریکا ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا تہران اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔
امریکی صدر نے ایران کی مذاکراتی حکمت عملی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران پہلے معاہدے کرتا ہے اور بعد میں ان سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے اس کی قابل اعتماد ہونے کی صلاحیت پر سوالات موجود ہیں۔