تازہ ترین

بھارت میں ووٹر فہرستوں پر تنازع، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ

0

نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے متنازع عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی میں اتوار کو کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں اور شہریوں نے مارچ کیا۔ مظاہرین نے مرکزی علاقوں سے رام لیلا میدان تک احتجاجی ریلی نکالی اور انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف نعرے لگائے۔

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی ملک گیر نظرثانی کے عمل کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اہل ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کو درست اور شفاف بنانے کے لیے نظرثانی ضروری ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق اس عمل کا مقصد دوہرے اندراجات، وفات پا جانے والے افراد اور جعلی ناموں کو فہرستوں سے خارج کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اہل شہری اپنے نام دوبارہ درج کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے نتیجے میں 13 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کے نام خارج کیے جا چکے ہیں۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

بی جے پی کے بعض رہنما طویل عرصے سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ بنگلہ دیش سے غیر دستاویزی مسلمان تارکین وطن بڑی تعداد میں بھارت کی ووٹر فہرستوں میں شامل ہوئے ہیں، تاہم انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ نظرثانی کا مقصد انتخابی ریکارڈ کو درست بنانا ہے۔

احتجاج میں شریک بعض شہریوں نے بھی شکایت کی کہ ان کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیے گئے ہیں، حالانکہ وہ طویل عرصے سے ووٹ ڈال رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور دیگر مسائل کے ساتھ اب ووٹ کے حق کا تحفظ بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج کے عمل پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے من مانا اور سنگین خامیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔ تنظیم نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے کیونکہ اس سے محروم طبقات کے ووٹ کے حق اور دیگر سرکاری سہولیات تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت نے انتخابی عمل میں جانبداری اور سیاسی فائدہ پہنچانے کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.