تازہ ترین

ادویات کی قیمتوں میں 2000 فیصد تک اضافہ، 50 کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری، مصطفیٰ کمال

0

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ 50 دوا ساز کمپنیوں نے بعض ادویات کی قیمتوں میں 2000 فیصد تک اضافہ کیا، جس کی نشاندہی تھرڈ پارٹی آڈٹ میں ہوئی ہے۔ حکومت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔

کراچی میں کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 2022 کے بعد کمپنیوں کو غیر ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم متعدد کمپنیوں نے اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافے کی اجازت نہ دی جائے تو دوا ساز کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری سے گریز کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اہم ادویات مارکیٹ سے غائب ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کینسر کی ایک دوا کی قیمت مناسب نہ بڑھنے کے باعث مارکیٹ میں دستیاب نہیں رہی تھی اور مریض کئی ماہ تک اسے بلیک مارکیٹ سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوئے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے نومبر میں موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی، جبکہ وزارت صحت کے ڈیٹا بینک میں 86 ہزار ادویات کا ریکارڈ جمع کرلیا گیا ہے۔

انتظامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ سرکاری نظام مزید نہیں چل سکتا اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ ان کے بقول اس معاملے میں تاخیر ملک کے لیے مزید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے کراچی کو درپیش مالی مسائل اور مردم شماری میں شہر کی آبادی مبینہ طور پر کم ظاہر کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو گزشتہ 17 برسوں کے دوران این ایف سی ایوارڈ کے تحت 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں، اس لیے مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.