پشاور: پاکستان تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صوبائی پارلیمانی پارٹی چھ رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تیاری کررہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر گزشتہ رات ہونے والے پی ٹی آئی کے صوبائی پارلیمانی اجلاس میں غور کیا گیا، جس میں 46 ارکان نے شرکت کی، جبکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکراتی کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور نور الحق قادری شامل ہوں گے، جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے تین ارکان کو بھی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے باضابطہ اعلان کے بغیر مذاکرات میں شامل ہونے سے معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری سطح پر باضابطہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کی صورت میں حکومت انہیں کس حیثیت سے مذاکرات میں قبول کرے گی۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے یقین دہانی کرائی کہ مذاکراتی کمیٹی کا باضابطہ اعلان 48 گھنٹوں کے اندر کردیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی تینوں بہنوں اور معطل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی رہائی سے متعلق معاملات وفاقی پارلیمانی کمیٹی کی ذمہ داری ہوں گے۔