پشاور: وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی نے صوبے کی صورتحال کو ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے، جہاں گورنر راج، وزیراعلیٰ کی تبدیلی اور تحریک عدم اعتماد سمیت مختلف آئینی و سیاسی امکانات پر بحث جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ہونے والا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا ہے، تاہم دونوں جانب سیاسی بیانات اور اقدامات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی، ان ہاؤس تبدیلی، اسمبلی تحلیل کرنے اور وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جیسے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 23 ستمبر کو گورنر راج کے امکان کو مسترد کیا تھا، تاہم خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے 25 ستمبر کو کہا کہ گورنر راج کے حوالے سے مشاورت ہوئی ہے اور آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔
آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے کم از کم 20 فیصد مجموعی ارکان وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرسکتے ہیں۔ قرارداد پیش ہونے کے بعد اس پر ووٹنگ تین دن سے پہلے اور سات دن کے بعد نہیں ہوسکتی، جبکہ تحریک کامیاب ہونے کے لیے صوبائی اسمبلی کی مجموعی رکنیت کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے قواعد کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کے لیے نوٹس متعلقہ طریقہ کار کے تحت اسمبلی کے بزنس میں شامل کیا جاتا ہے اور قرارداد پیش ہونے کے بعد اس پر تین سے سات دن کے اندر ووٹنگ کرائی جاتی ہے۔ قواعد کے مطابق اس ووٹنگ کا طریقہ کار اسمبلی کے متعلقہ ڈویژن رولز کے تحت ہوگا۔
ادھر وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے 27 ستمبر کو کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آئینی و قانونی آپشن موجود ہے، تاہم ان کے مطابق اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یوں خیبرپختونخوا میں موجودہ سیاسی صورتحال کا آئندہ رخ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مذاکرات، احتجاجی سیاست اور ممکنہ آئینی اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔