پشاور: خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے، جہاں گورنر فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل سے متعلق سوالات پر کہا ہے کہ سہیل آفریدی جا رہے ہیں اور علی امین گنڈاپور آنے والے ہیں، تاہم انہیں صورتحال کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت استعفیٰ موصول ہوا تو وہ اسے منظور کریں گے۔
گورنر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا اور وزیراعظم سے پشاور میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانے کی درخواست کی۔ انہوں نے گورنر ہاؤس میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی جا رہے ہیں اور علی امین گنڈاپور آرہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کچھ واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت لانگ مارچ تو دور، مختصر مارچ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں، جبکہ تاریخ پر تاریخ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سہیل آفریدی ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، تاہم افغانستان سے ہونے والے کواڈ کاپٹر حملوں پر کوئی مذمت نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے اسمبلی میں افغانستان سے ہونے والے کواڈ کاپٹر حملوں کے خلاف کوئی قرارداد بھی پیش نہیں کی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے باقاعدہ چینل کے ذریعے استعفیٰ موصول ہونے کی صورت میں وہ اسے منظور کریں گے۔