صدر مملکت آصف علی زرداری نے 1947 میں جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔ یومِ شہدائے جموں کے موقع پر انہوں نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اس معاملے پر مؤثر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ نومبر 1947 میں ڈوگرہ حکمران کی فورسز نے انتہا پسند مسلح گروہوں کی معاونت سے جموں کی مسلم آبادی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مرد، خواتین اور بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تشدد کے باعث بڑی تعداد میں زندہ بچ جانے والے افراد کو اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ ان کے مطابق اس سانحے نے جموں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کر دیا اور اس کے اثرات نسل در نسل محسوس کیے جاتے رہے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ 6 نومبر 1947 کا قتل عام اجتماعی یادداشت کا حصہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، پُرامن احتجاج پر پابندیوں، بطور سزا مکانات مسمار کرنے اور ذرائع ابلاغ کی آزادی محدود کیے جانے سے متعلق امور کی نشاندہی کی ہے۔
صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا بھی ذکر کیا، جن میں تشدد، حراست کے دوران اموات اور اجتماعی سزا سے متعلق اطلاعات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیع اختیارات پر مبنی سکیورٹی قوانین کے ذریعے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو خاموش کرانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، مذہبی اقلیتوں اور پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ صدر زرداری نے الزام عائد کیا کہ بھارت میں دائیں بازو کے سیاسی رہنما اور انتہا پسند گروہ نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، جس سے ملک کے اندر اقلیتوں کو مزید مشکلات اور بیرونِ ملک کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں جواب دہی اور کمزور طبقات کا تحفظ ضروری ہے۔
آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق سامنے آنے والے خدشات پر کارروائی کریں۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ ایسے افراد کو رہا کیا جائے جنہیں قانونی جواز کے بغیر حراست میں رکھا گیا ہے، صحافیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور بطور سزا گھروں کو مسمار کرنے اور اجتماعی سزا دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے مبینہ خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات اور عالمی مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کو متعلقہ عالمی فورمز پر اٹھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کا استعمال نہیں کر لیتے۔