اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے اور قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 12.31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ صرف ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 54.18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے بھی مہنگائی کی شرح بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) کی بنیاد پر قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 12.31 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اس سے گزشتہ ہفتے 11.32 فیصد تھی۔
ادارہ شماریات ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں جمع کرتا ہے، جن کی بنیاد پر ہر ہفتے حساس قیمت اشاریہ مرتب کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے قلیل مدتی مہنگائی کی شرح مسلسل دوہرے ہندسوں میں برقرار ہے۔ اس دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھی مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا، تاہم گزشتہ تین روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ جائزے میں سامنے آئیں گے۔ دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق زیر جائزہ ہفتے کے دوران 51 ضروری اشیا میں سے 21 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو مجموعی تعداد کا 41.18 فیصد بنتا ہے، جبکہ 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن کا تناسب 19.60 فیصد رہا۔ اسی طرح 20 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں، جو مجموعی تعداد کا 39.22 فیصد ہیں۔ ہفتہ وار بنیادوں پر حساس قیمت اشاریے میں 0.29 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54.18 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 3.72 فیصد، آلو 2.07 فیصد، انڈے 1.17 فیصد، لہسن 1.06 فیصد اور جلانے کی لکڑی 1.01 فیصد مہنگی ہوئی۔ اس کے علاوہ پسا ہوا نمک 0.91 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.64 فیصد، تازہ دودھ 0.49 فیصد، دہی 0.41 فیصد، ماچس 0.16 فیصد اور شرٹنگ کا کپڑا 0.15 فیصد مہنگا ہوا۔
اس کے برعکس گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 4.20 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 2.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چنے کی دال 1.08 فیصد، کیلے 0.85 فیصد، پیاز 0.82 فیصد، خشک دودھ 0.73 فیصد، مرغی کا گوشت 0.61 فیصد، چینی 0.40 فیصد، گندم کا آٹا 0.34 فیصد اور مونگ کی دال 0.27 فیصد سستی ہوئی۔
سالانہ بنیادوں پر قیمتوں کے تقابل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایل پی جی سب سے زیادہ مہنگی ہونے والی اشیا میں سرفہرست ہے، جس کی قیمت میں 114.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ٹماٹر 78.89 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی 52.38 فیصد مہنگی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ڈیزل کی قیمت میں 39.27 فیصد، پیٹرول 36.34 فیصد، گندم کا آٹا 33.95 فیصد، مرغی کا گوشت 31.81 فیصد اور پسی ہوئی مرچ کی قیمت میں 15.55 فیصد اضافہ ہوا۔ بکرے کا گوشت 14.54 فیصد، پیاز 13.64 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 12.35 فیصد اور گائے کا گوشت 11.06 فیصد مہنگا ہوا۔
دوسری جانب گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں آلو کی قیمت میں 37.24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ انڈے 27.59 فیصد اور چینی 25.03 فیصد سستی ہوئی۔ اسی طرح پسا ہوا نمک 14.09 فیصد، گڑ 7.75 فیصد، مسور کی دال 7.49 فیصد، مونگ کی دال 6.79 فیصد اور اری 6/9 چاول کی قیمت میں 1.79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 11.32 فیصد تھی، جو تازہ ہفتے میں بڑھ کر 12.31 فیصد ہوگئی ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں ایل پی جی، گندم کے آٹے اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔