تازہ ترین

پاکستان کے کیکڑوں کی چین میں دھوم، سمندری خوراک کی برآمدات میں بڑا اضافہ

0

اسلام آباد: چین میں پاکستانی سمندری خوراک، خصوصاً مڈ کربز کی بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان کے لیے برآمدات میں اضافے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کے نئے مواقع پیدا کردیے ہیں۔

پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نذیر حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس فشریز اور سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں صلاحیت موجود ہے، جس میں مڈ کربز، جھینگے، لابسٹر اور تازہ و منجمد مچھلی اہم مصنوعات ہیں۔

انہوں نے پاکستان کے وسیع ساحلی علاقوں اور سمندری وسائل سے بہتر استفادے کے لیے جدید پروسیسنگ مراکز، کولڈ چین انفراسٹرکچر، معیاری نظام اور بین الاقوامی سرٹیفکیشنز میں سرمایہ کاری پر زور دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 2025 میں تقریباً 255 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔

پاکستان کے مجموعی سمندری خوراک کے برآمدی شعبے نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 482.08 ملین ڈالر رہیں، جبکہ وزارت کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق یہ حجم 568 ملین ڈالر تک پہنچا۔

چین پاکستانی سمندری خوراک کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے، جبکہ 2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران چین کو تازہ اور ٹھنڈے کیکڑوں کی برآمدات بھی 31.9 ملین ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔

چیمبر کے نمائندوں کے مطابق مڈ کرب پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات کو متنوع بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چین کے درآمد کنندگان، تقسیم کاروں، ریٹیلرز اور فوڈ سروس کمپنیوں کے ساتھ مضبوط کاروباری روابط قائم کرنے سے پاکستانی مصنوعات کے لیے طویل مدتی مارکیٹ تک رسائی مزید بہتر ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافہ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی آبادیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.