غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، 4 سالہ بچے سمیت 2 فلسطینی جاں بحق، 7 زخمی
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سلسلہ رک نہ سکا، مختلف فضائی حملوں میں ایک 4 سالہ بچے سمیت کم از کم 2 فلسطینی جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔
فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق ایک حملہ وسطی غزہ کے علاقے زوایدہ میں ایک عمارت پر کیا گیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے عمارت کے مالکان کو علاقہ چھوڑنے کی وارننگ دی گئی تھی۔
طبی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد ملبے اور شیل کے ٹکڑوں سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں 4 سالہ محمد عبدالاسلام طٰہٰ بھی شامل تھا، جو بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گیا۔
دوسرا فضائی حملہ قریبی نصیرات پناہ گزین کیمپ میں ہوا۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ دونوں حملوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
اکتوبر 2025 میں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے کی لڑائی رک گئی تھی، تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس اور دیگر جنگجوؤں کے حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دیر البلح میں حماس کے ایک سینئر رکن شریف الحسنات کو ہلاک کردیا گیا، جو تنظیم کے زیر زمین انفراسٹرکچر کی بحالی کی کوششوں کی قیادت کررہا تھا۔
حماس اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے کو متاثر کرنے کا الزام عائد کرتی ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ اکتوبر جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے 1,280 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے۔