چینی سائنسدانوں کی اہم کامیابی، اسٹیم سیلز سے دل کے مریضوں کی حالت بہتر
شدید ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کے علاج میں چینی سائنسدانوں کی ایک ابتدائی تحقیق نے نئی امید پیدا کردی ہے، نانجنگ ڈرم ٹاور اسپتال میں ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں مریضوں کے اپنے خلیات سے تیار کی گئی اسٹیم سیل تھراپی کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق 10 شدید متاثرہ مریضوں کو دل کے متاثرہ حصوں میں اسٹیم سیلز کے انجیکشن دیے گئے، جبکہ موازنے کے لیے 10 دیگر مریضوں کی کورونری آرٹری بائی پاس سرجری کی گئی۔
12 ماہ کے فالو اپ میں اسٹیم سیل تھراپی حاصل کرنے والے 90 فیصد مریضوں کی حالت انتہائی معمولی علامات تک بہتر ہوئی اور وہ روزمرہ کے کام انجام دینے کے قابل ہوگئے۔
ان مریضوں میں سینے کی جکڑن اور سانس پھولنے کی شکایات میں نمایاں کمی آئی، جبکہ 6 منٹ کی واک ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی بائی پاس گروپ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی۔
اس کے مقابلے میں بائی پاس سرجری کروانے والے گروپ کے 60 فیصد مریض اس سطح تک بہتر ہوسکے، جبکہ ایک مریض سرجری کے 8 ماہ بعد انتقال کرگیا۔
اسٹیم سیل تھراپی کا طریقہ کار
اس طریقہ علاج میں مریض کے اپنے جسمانی خلیات کو پہلے غیر تخصیص شدہ آئی پی ایس سی ایس اسٹیم سیلز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد ان خلیات کو دل کے مخصوص عضلاتی خلیات میں ڈھال کر ان حصوں میں داخل کیا جاتا ہے جہاں ٹشو ناکارہ ہوچکا ہو۔ اس تکنیک کا مقصد دل میں خلیات کی نئی نمو اور پمپنگ کی صلاحیت میں بہتری لانا ہے۔
حفاظت اور مستقبل
مطالعے کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی حاصل کرنے والے مریضوں میں کوئی شدید منفی اثر سامنے نہیں آیا۔ صرف دو مریضوں میں ٹیکی کارڈیا یعنی دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت سامنے آئی، جو علاج کے 2 سے 3 ہفتوں بعد خود ختم ہوگئی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس علاج کو عام استعمال میں لانے سے قبل بڑے پیمانے پر مزید کلینیکل ٹرائلز اور اس کے رسک ٹو بینیفٹ ریشو کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔