تازہ ترین

جوڈیشل کمیشن پر اعتراض، میر رضا کے اہلخانہ نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا

0

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کی تحقیقات کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، ان کے اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ اہلخانہ جے آئی ٹی کے قیام کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کی مخالفت کریں گے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ تحقیقات کے لیے طے کیے گئے ٹرمز آف ریفرنس بھی عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ اگلے روز مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی جانی تھی تو اس سے ایک روز قبل سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیوں کیا گیا۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت پولیس کی تفتیش کے نتائج سے پہلے ہی آگاہ ہے اور ان نتائج سے اتفاق نہیں کرتی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ اگر پولیس تحقیقات مکمل ہونے والی تھیں تو اس سے پہلے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس معاملے کی وضاحت ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید سوال کیا کہ میر رضا کیس میں جے آئی ٹی کیوں تشکیل نہیں دی گئی اور پولیس افسران کے مبینہ مجرمانہ رویے کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔

واضح رہے کہ میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ ابتدائی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹس سے متعلق سوالات سامنے آنے کے بعد اہلخانہ نے موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

کیس میں بعد ازاں قبر کشائی، دوبارہ پوسٹ مارٹم اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل جیسے اقدامات بھی کیے گئے، جبکہ مختلف رپورٹس میں تضادات نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

اب اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی مخالفت اور جے آئی ٹی کے مطالبے کے بعد تحقیقات کے طریقہ کار پر ایک نیا تنازع سامنے آگیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.