تازہ ترین

قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

0

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت کے حوالے سے وزارت خزانہ کی نئی رپورٹ میں قرضوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملکی قرضوں میں اضافے کی شرح گزشتہ دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے مجموعی قرضوں میں صرف 7.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ 20 سال کے دوران قرضوں میں اضافے کی اوسط شرح تقریباً 16 فیصد رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب بھی کم ہو کر 68.3 فیصد ہوگیا ہے۔ مالی سال 2022-23 میں یہ تناسب 75 فیصد تھا، جبکہ 2019 سے 2021 کے دوران مجموعی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 86 سے 88 فیصد کے درمیان رہا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی قرضوں کے حوالے سے بھی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور بیرونی قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب کم ہو کر 21.5 فیصد پر آگیا، جو گزشتہ 9 برسوں کی کم ترین سطح ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جسے ملکی مالیاتی صورتحال میں بہتری کی اہم علامت قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے 4.72 ٹریلین روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک سال کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کے اخراجات میں تقریباً 2 ٹریلین روپے کی کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی آمدن میں سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہوا ہے اور یہ 61 فیصد سے گھٹ کر 35 فیصد رہ گیا۔ وزارت خزانہ نے اسے مالیاتی دباؤ میں کمی کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے مسلسل تین سال پرائمری بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو حکومتی مالیاتی نظم و ضبط اور اخراجات و آمدن میں بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں دوبارہ واپس آیا ہے۔ پاکستان کے پانڈا بانڈ کی طلب جاری کردہ حجم سے تقریباً پانچ گنا زیادہ رہی، جسے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے بھی پاکستان کی ریٹنگ ’بی‘ مستحکم قرار دی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ ریٹنگ تقریباً نو برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو پاکستان کی مالیاتی صورتحال میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.