تازہ ترین

غزہ جنگ بندی مذاکرات، نیتن یاہو نے فوجی انخلا سے انکار کر دیا

0

اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ سے فوج نکالنے سے صاف انکار کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔

نیتن یاہو انتخابی مہم چلانے کے موڈ میں ہیں کیونکہ وہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے خواہاں ہیں، لیکن غزہ کے معاملے پر برہم انتہائی دائیں بازو کے وزرا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایلچی نکولے ملاڈینوف سے ملاقات کے بعد سے غزہ پر حملوں میں کمی کر دی ہے۔اسرائیلی مؤقف سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ فوج غزہ میں صرف ان چیزوں کے خلاف کارروائی کرے گی جنہیں وہ فوری خطرہ سمجھتی ہے اور اب وہ ٹارگٹ کلنگ جاری نہیں رکھے گی۔

ٹرمپ نے پچھلے ماہ اعلان کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے ان کے منصوبے میں ایک بڑی پیشرفت ہوئی ہے جس پر اسرائیل اور حماس دونوں متفق ہوگئے تھے، منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج کے انخلا کے ساتھ ساتھ حماس ہتھیار ڈال دے گی اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس اس علاقے کو محفوظ بنانے کیلیے ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے ہتھیار ڈالنے سے پہلے غزہ میں موجود اسرائیلی فوجی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف حماس کا اصرار ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کے حصے پر عمل درآمد شروع کرنے سے پہلے اسرائیل حملے روکے۔

نیتن یاہو نے وزرا کے ساتھ ایک میٹنگ کے آغاز میں کہا ’اسرائیل اس 15 نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا۔ فوج اس وقت تک کوئی انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔ اس کا مطلب ہے بھاری ہتھیار، ہلکے ہتھیار، تمام ہتھیار‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم حقیقی تخفیف اسلحہ کی بات کر رہے ہیں، اسرائیل اس منصوبے پر امریکا کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، امریکا کے پاس کچھ خیالات ہیں جن میں سے کچھ ہمیں قبول ہیں اور کچھ ہمیں قبول نہیں ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.