جلیلہ حیدر کا عالمی اعزاز ہزارہ قوم اور پاکستان کیلئے باعثِ فخر ہے، کاشف حیدری
کوئٹہ: مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو 2026 کے رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ سے نوازے جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ ہزارہ قوم، بلوچستان اور پاکستان کیلئے بھی باعثِ فخر ہے۔
کاشف حیدری نے کہا کہ جلیلہ حیدر نے اپنی زندگی انسانی حقوق، انصاف، خواتین کے حقوق اور کمزور و محروم طبقات کیلئے آواز بلند کرنے میں صرف کی۔ وہ پاکستان کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون وکیل ہیں اور طویل عرصے سے نسلی و مذہبی امتیاز، صنفی ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی و سماجی جدوجہد کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جلیلہ حیدر کی خدمات کے نتیجے میں ہزاروں ایسے افراد کو قانونی مدد اور انصاف تک رسائی حاصل ہوئی جو معاشرے میں کمزور یا نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ ان کی جدوجہد صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے عملی طور پر بھی انسانی حقوق اور اپنی برادری کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائی۔
کاشف حیدری کے مطابق 2018 میں ہزارہ برادری کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جلیلہ حیدر کی سات روزہ بھوک ہڑتال ان کی جدوجہد کا نمایاں باب ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے خواتین کی سیاسی و سماجی شمولیت، پسماندہ طبقات کے حقوق اور متاثرہ خاندانوں کی معاشی خودمختاری کیلئے بھی کام کیا۔
رائٹ لائیولی ہڈ فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کو 2026 کا ایوارڈ اپنی ہزارہ برادری کی پہلی خاتون وکیل کی حیثیت سے نسلی، ریاستی اور صنفی جبر کے خلاف جدوجہد اور پاکستان کے کمزور طبقات کیلئے قانونی و سماجی خدمات پر دیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ان کی قانونی اور سماجی سرگرمیوں سے ہزاروں افراد کو مدد ملی ہے۔
کاشف حیدری نے کہا کہ رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ عالمی سطح پر انصاف، امن اور انسانی حقوق کیلئے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے اور اسے عام طور پر متبادل نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے۔ 2026 میں جلیلہ حیدر سمیت چار افراد اور تنظیموں کو یہ اعزاز دیا گیا ہے
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات، دھمکیوں اور مختلف دباؤ کے باوجود انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کیلئے جلیلہ حیدر کی جدوجہد نئی نسل کیلئے عزم، حوصلے اور استقامت کی مثال ہے۔
کاشف حیدری نے جلیلہ حیدر کو دوبارہ مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی مظلوم، محروم اور کمزور طبقات کے حقوق کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔