اسلام آباد: صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے سے چار پاکستانی شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور وہ کل کراچی پہنچیں گے، جبکہ قزاقوں کے خلاف کارروائی کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے جسد خاکی بھی وطن منتقل کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ بازیاب ہونے والے پاکستانی شہری یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمانی غنی کل کراچی پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کیلئے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانیوں کے جسد خاکی پاکستان لانے کیلئے بھی کوششیں جاری ہیں۔
اسحاق ڈار نے جاں بحق پاکستانیوں کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کے مطابق مزید پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی کیلئے دوست ممالک سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین جہاز کے کپتان کے ہمراہ موجود ہیں اور ان کی بحفاظت واپسی کیلئے وزارت خارجہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خارجہ تمام پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کیلئے سرگرم ہے۔
دوسری جانب صومالی حکام نے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے جسد خاکی پاکستان منتقل کرنے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ پاکستانی شہری آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کے عملے کا حصہ تھے، جسے اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ صومالی سکیورٹی فورسز نے حالیہ کارروائی میں ٹینکر کو قزاقوں سے بازیاب کرایا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کارروائی کے دوران پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں، جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جن میں تین پاکستانی بھی شامل ہیں۔ جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔
صومالی حکام کے مطابق کارروائی کے بعد ٹینکر کو محفوظ بنا لیا گیا جبکہ متعدد مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام جاں بحق افراد کے جسد خاکی کی وطن واپسی اور زخمی و دیگر زندہ بچ جانے والے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کیلئے صومالی حکام سے رابطے میں ہیں۔