تازہ ترین

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آگے بڑھانے پر اتفاق، پاکستان اور ایران کا قریبی رابطے برقرار رکھنے کا عزم

0

نیویارک: پاکستان اور ایران نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی صدر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایران کے لیے اب بھی مکمل طور پر قابل قبول ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی پوری قیادت خطے میں امن کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کوششوں کو مزید تیز کرنے کے عزم پر متفق ہے۔

شہباز شریف نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برادر اور دوست ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی صدر سے ملاقات کے دوران بھی اس معاملے پر بات کی اور واضح کیا کہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان ماضی کی طرح آئندہ بھی خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر پزشکیان نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور لبنان خطے میں امن کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دیرینہ اور قریبی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے طویل عرصے سے جاری تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، تحمل اور پائیدار سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جانب سے مخلصانہ اور تعمیری کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور اسے مزید آگے بڑھانے کی اہمیت اجاگر کی۔

ایرانی صدر نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور پاکستان ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی وابستگیوں پر قائم ہیں۔

دونوں ممالک نے خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

بعد ازاں وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر اہم تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر طویل تنازع پر پاکستان کی تشویش، تحمل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے متعدد سفارتی کوششیں کرچکا ہے۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی میزبانی بھی کی ہے اور مسلسل مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل فوجی ذرائع کے بجائے سفارتی طریقوں سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ باب المندب کے اطراف بھی سیکیورٹی صورتحال میں بگاڑ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خطے کی کشیدگی نے عالمی توانائی کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث خلیجی ممالک سمیت مختلف فریق سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اب تک نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.