مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا امکان، امریکی صحافی کا دعویٰ
واشنگٹن: معروف امریکی صحافی اور سابق ٹی وی میزبان ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں ٹکر کارلسن نے ایران کے وسطی علاقے میں واقع پِک ایکس ماؤنٹین کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران نے اس مقام پر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردی ہے۔
کارلسن کا دعویٰ ہے کہ اس پہاڑ کے اندر زیرِ زمین سرنگیں تقریباً 300 فٹ ٹھوس گرینائٹ کے نیچے واقع ہیں، جس کے باعث روایتی امریکی ہتھیار ان تنصیبات تک پہنچنے اور انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی صحافی نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں فوجی کارروائی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم، کارلسن کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ امریکی حکومت نے ایران پر جوہری حملے کا فیصلہ کیا ہے یا اس کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے 16 اکتوبر کو ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کیا تھا۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی ایسے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔