ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے اور نئے پرائسنگ فارمولے کے خلاف پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات مقررہ مدت میں تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں ایل پی جی کی فروخت مکمل طور پر بند کردی جائے گی۔
ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر کے مطابق نئے پرائسنگ فارمولے کے باعث ایل پی جی کی قیمتوں میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑے گا۔
دستاویز کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والی تقریباً 90 فیصد ایل پی جی باؤزرز کے ذریعے زمینی راستے سے صارفین تک پہنچائی جاتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی 30 فیصد گیس بھی نئے فارمولے کے تحت مہنگی ہوجائے گی۔
دوسری جانب اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلوگرام اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد نئی سرکاری قیمت 294 روپے 73 پیسے فی کلوگرام مقرر ہوگئی ہے۔ اضافے کے نتیجے میں 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 173 روپے 86 پیسے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی سرکاری قیمت 3 ہزار 470 روپے مقرر کی گئی ہے۔
اوگرا کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر 2026 سے ہوگا، جبکہ اضافے کی بنیادی وجہ سعودی آرامکو معاہدے کی قیمت میں 6.47 فیصد اضافہ ہے۔
تاہم مارکیٹ میں ایل پی جی پہلے ہی سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت ہورہی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق فی کلوگرام قیمت تقریباً 600 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر 6 سے 7 ہزار روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔