تازہ ترین

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، کرپشن الزامات کے شواہد جمع کیے جارہے ہیں، ثمر ہارون

0

خیبر پختونخوا حکومت کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، جبکہ اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے الزامات سے متعلق شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔

سول سیکریٹریٹ کے انفارمیشن سیل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ادارہ جاتی اصلاحات، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق سوال پر ثمر ہارون بلور نے انہیں سینئر اور قابل احترام سیاست دان قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بیانات سے سیاسی مایوسی اور فیصلہ سازی کے عمل میں متوقع کردار نہ ملنے کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کی تعمیری تجاویز اور رہنمائی کا خیرمقدم کرے گی۔

پشاور کے دیر کالونی سانحے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں اور تفصیلی رپورٹ جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ صوبے کے سرکاری و نجی اسکولوں اور مدارس کے معائنے کے دوران 4049 تعلیمی اداروں کی مرمت اور بحالی کی ضرورت سامنے آئی ہے۔

ان اداروں کی بہتری کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جارہا ہے، جبکہ متاثرہ اسکولوں کے طلبہ کو قریبی سرکاری تعلیمی اداروں میں منتقل کیا جائے گا۔ طلبہ کی کلاسوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ اور ضرورت کے تحت دوسری شفٹ کے انتظامات بھی کیے جائیں گے تاکہ تعلیم کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔

مشیر اطلاعات نے بتایا کہ متعلقہ محکموں اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے ذیلی کمیٹی بھی کام کررہی ہے، جو عمارتوں کی منظوری، معائنے اور نگرانی میں ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گی۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کو آٹھ جدید بکتر بند گاڑیاں فراہم کردی گئی ہیں، جبکہ پولیس کے بنیادی ڈھانچے اور عملی استعداد بہتر بنانے کے لیے آئندہ پانچ سے چھ ہفتوں میں جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورس کو جدید وسائل اور آلات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ صحت کارڈ پروگرام میں اندرونی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، تاہم اسے ختم یا بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (MTIs) کی کارکردگی، انتظامی امور اور ان کے بورڈز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تجاوزات کے خلاف کارروائی سے متعلق انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی، گرین بیلٹس اور نکاسی آب کے راستوں پر غیر قانونی قبضے ختم کرنا ضروری ہے تاکہ پشاور میں ٹریفک اور سیوریج کے مسائل حل کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق کارروائی بلاامتیاز جاری ہے اور کسی کو سیاسی یا ذاتی سفارش پر رعایت نہیں دی جارہی۔ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ان مقامات کو بحال کرکے عوامی استعمال کے لیے خوبصورت بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں صفائی کی صورتحال بہتر ہورہی ہے اور عملہ رات گئے تک صفائی کے کام میں مصروف رہتا ہے۔ شہر میں کچرا جمع کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جارہا ہے، جبکہ مین ہولز کے ڈھکنوں اور کوڑے دانوں کی کمی دور کرنے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر مشیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں اچھی حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات، احتساب، شفافیت اور عوامی خدمت شامل ہیں، جن پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.