تازہ ترین

ایران کی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی، ترجمان پاک فوج

0

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن اور مشترکہ دفاع کے لیے تعاون کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رواں ماہ دو مرتبہ تہران کا دورہ کرچکے ہیں، جہاں سعودی عرب اور ترکی کے حکام کے ساتھ مل کر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پرامید ہے، تاہم بعض بااثر عناصر اب بھی موجود ہیں جو اس تنازع کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن نے بھی پیر کے روز تہران میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کا وژن رکھنے والے ہر ملک کا خیرمقدم کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، تاہم پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ فوج بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے بجائے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کررہی ہے، جن کی رفتار اور دائرہ کار میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک فوج پر عائد سیاسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.