تازہ ترین

دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہو تو گورنر راج ختم ہوسکتا ہے، بلاول

0

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کا راستہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی سے نکل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کے لیے تیار ہو اور کسی متفقہ منصوبے پر اتفاق ہوجائے تو صوبے میں نافذ ہنگامی اقدامات ختم کیے جاسکتے ہیں۔

کراچی میں سانحہ کارساز کی 19ویں برسی کے موقع پر یادگارِ شہدا پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی قیادت واقعی دہشتگردی کے خلاف کارروائی چاہتی ہے اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے وفاقی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ پالیسی اور اتفاق رائے پیدا ہونے سے ملک کو شدت پسندی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہو اور ایک منصوبے پر اتفاق کر لیا جائے تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم کی جاسکتی ہے۔

بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں تو پیپلز پارٹی اس جدوجہد کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کی تھی۔ بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ان کی جماعت دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ خیبر سے خضدار تک دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے 2021 میں افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان کی سابق حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ اس وقت کی حکومت نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو واپس پاکستان لا کر سوات، ملاکنڈ اور سابق قبائلی علاقوں میں آباد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا اشارہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں تحریک طالبان پاکستان کے بعض ارکان کی ممکنہ واپسی اور آبادکاری سے متعلق منصوبوں کی جانب تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.