تازہ ترین

ٹرمپ کی نیتن یاہو کی حمایت، ایرانی وزیر خارجہ کا سخت ردعمل

0

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بیانات کی صورت میں نمایاں ہوگئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی سیاسی مشکلات سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ آخری مرتبہ جب ایران کے خلاف معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا تھا۔ انہوں نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے دوبارہ جنگ آزمانے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا اور کہا کہ ایران کے کچھ معاملات ابھی نامکمل ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید الزام لگایا کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکا کو ایک اور جنگ میں دھکیل رہے ہیں، چاہے اس کے نتائج اسرائیل یا امریکی صدر کے لیے کچھ بھی ہوں۔

یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ ان بیانات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران کے رویے میں تبدیلی نہ آنے کی صورت میں امریکا اور اسرائیل مل کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نیتن یاہو کو ایک مضبوط جنگجو وزیراعظم اور امن کا شراکت دار قرار دیتے ہوئے اسرائیلی عوام سے ان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ ٹرمپ نے فروری میں ایران پر حملوں کے دوران نیتن یاہو کے امریکی مؤقف کی حمایت کرنے کو بھی سراہا۔

امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو نے اندرون اور بیرون ملک شدید مخالفت کے باوجود مشکل حالات میں مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے۔

اسرائیل میں وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ پارلیمانی نشستوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد سازی کے نتیجے میں حکومت تشکیل پاتی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق انتخابات میں کسی ایک امیدوار یا جماعت کے لیے حکومت بنانے کا راستہ واضح نہیں، جبکہ ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی زیر بحث ہیں۔

ادھر میڈیا رپورٹس اور اخباری انکشافات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق پیشگی اطلاعات کے باوجود نیتن یاہو نے فوری کارروائی کی اجازت دینے میں احتیاط برتی۔ ان رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے مبینہ طور پر اپنے سکیورٹی حکام اور اماراتی حکام کو بتایا تھا کہ وہ غزہ پر حملوں کی اجازت دینے سے گریز کرنا چاہتے ہیں تاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں متاثر نہ ہوں۔

ان دعوؤں اور سیاسی بیانات کے درمیان خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ایک اہم سفارتی اور سکیورٹی موضوع بنے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.