تازہ ترین

نومبر کے بجلی بلوں میں فی یونٹ 2.56 روپے اضافے کا امکان

0

اسلام آباد: ستمبر کی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ کے تحت نومبر کے بجلی بلوں میں 2.56 روپے فی یونٹ اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے صارفین پر تقریباً 33 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے ایندھن کے اثرات محدود کرنے کے لیے بروقت اقدامات اور ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ستمبر میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگا ایندھن استعمال ہونے کے باعث نومبر کے بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ کے تحت اضافہ متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقدامات نہ کیے جاتے تو اضافے کا حجم مزید بڑھ سکتا تھا۔

وزارتِ توانائی کے مطابق ستمبر کے دوران تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی ٹارگٹڈ لوڈ مینجمنٹ کی گئی، جس سے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل جیسے مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متوقع اضافے کو محدود رکھا گیا۔

بیان کے مطابق مقامی گیس کی قیمتوں پر درآمد شدہ ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی سے بھی صارفین پر مالی بوجھ 83 پیسے فی یونٹ کم ہوا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں تیزی سے بڑھیں۔ قطر کی جانب سے فورس میجور کے اعلان کے باوجود پاکستان نے معاہدے کے تحت سپلائی اور اضافی اسپاٹ کارگوز کے ذریعے آر ایل این جی کی ضروریات پوری کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق جنوری سے اگست کے دوران فیول پرائس ایڈجسمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسمنٹ کا مجموعی اثر 65 پیسے فی یونٹ تک محدود رہا، جو بنیادی بجلی ٹیرف میں تقریباً 1.9 فیصد اضافے کے برابر تھا۔ بیان میں اس کی وجوہات میں ٹیرف ریشنلائزیشن اور صنعتی و زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی کی کھپت کا پیکیج شامل کیا گیا۔

ستمبر کی فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ اگست کے 1.11 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 1.45 روپے فی یونٹ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ اس کا نومبر کے بجلی بلوں پر تخمینہ شدہ مالی اثر 32.7 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق عالمی ایندھن کی منڈیوں اور سپلائی چینز پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ بیرونی قیمتوں کے اثرات کم کیے جاسکیں۔

دوسری جانب صنعتی صارفین نے اضافی بجلی کی کھپت کے لیے صنعتی سپورٹ پیکیج کے اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 22.96 روپے فی یونٹ کے مارجنل کاسٹ ریٹ سے محدود صارفین کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ 34 روپے فی یونٹ کی اصل مارجنل لاگت کا بوجھ اوسط صارفین کے ٹیرف میں شامل ہو رہا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے گزشتہ ہفتے اضافی بجلی کی کھپت کے پیکیج پر نظرثانی یا اسے معطل کرنے کے معاملے پر عوامی سماعت کی تھی، تاہم اس حوالے سے فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.